
پولیس کا کہنا ہے کہ پسند کی شادی نہ ہونے پر طالبہ دلبرداشتہ ہوئی اور اسی ذہنی دباؤ کے باعث اس نے خودکشی کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق فاطمہ کی آخری فون کال بھی اسی نوجوان احمد کے ساتھ ہوئی تھی، جس کے بعد طالبہ نے اس نمبر کو اپنے موبائل فون سے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
اہلِ خانہ نے پولیس کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کا علاج اسپتال میں جاری ہے اور اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈی فارمیسی کی طالبہ فاطمہ نے جامعہ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی۔
شدید زخمی حالت میں اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال زیر علاج ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں اور اس کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے ہیں۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبہ کی حالت نازک ہے تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
اسپتال کے پرنسپل اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر فاروق افضل نے منگل کو میڈیا کو بتایا تھا کہ فاطمہ کو ساڑھے بارہ بجے اسپتال لایا گیا جہاں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
ان کے مطابق طالبہ کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہے، لیکن اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں جن میں اس کی صحت یابی کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل کے مطابق فاطمہ کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے اور اس کا بلڈ پریشر اور نبض معمول پر لانے میں کامیابی حاصل ہو گئی ہے، تاہم اس کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں ہیں جن کے لیے خصوصی طبی نگہداشت جاری ہے۔
میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ مکمل صحت یابی کے لیے مزید وقت اور نگرانی درکار ہوگی اور والدین کو ہر لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ واقعے والے دن صبح 7 بج کر 58 منٹ پر یونیورسٹی پہنچی، مگر کلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ وہ تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کرتی رہی اور بعد ازاں کال ڈیلیٹ کرنے کے بعد عمارت سے چھلانگ لگا دی۔
واقعے کے وقت صبح 8 بج کر 30 منٹ ہو رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طالبہ کے بھائیوں نے ایک روز قبل اسے نیا موبائل فون دیا تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ابتدا میں یہ تاثر بھی سامنے آیا تھا کہ طالبہ تعلیمی نتائج سے مطمئن نہیں تھی، تاہم اب تک کی تحقیقات کے مطابق معاملہ زیادہ تر گھریلو نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یونیورسٹی انتظامیہ کی کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ طالبہ کے بیان کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے بعد جامعہ کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور ادارے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرتے ہوئے آن لائن کلاسز کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا اور صورتحال کا مکمل جائزہ لینا ہے۔
طالبہ کی بہن کے مطابق فاطمہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے اور اس کی حالت تشویش ناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے سے ایک رات قبل فون پر فاطمہ سے بات ہوئی تھی اور وہ خوشگوار موڈ میں تھی، کسی پریشانی کا اندازہ نہیں ہوا۔ پولیس اور اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
0 تبصرے