
وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ فتنہ کی سرکوبی میں مجھے آپ کی ضرورت ہے، دین کا نام استعمال کرکے فتنہ کو فروغ دینا خیانت ہے، کئی لوگوں نے مذہب کے نام پر فتنہ کو فروغ دیا۔
پولیس، رینجرز کے نوجوانوں کو انہوں نے شہید کیا، لوگوں کی املاک جلا دی گئیں، آمدورفت کے راستے بند کر دیے، اگر یہ فتنہ نہیں تو اور فتنہ کس کو کہتے ہیں؟ فتنہ، ظلم و زیادتی چاہےکسی بھی رنگ میں ہو، اسے کٹہرے میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست شہدا کے خون کا حساب لے گی، ریاست لوگوں کی جان و مال اور قوم کی سلامتی سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دے گی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب لوگوں کو مشکلات آتی ہیں تو لوگ اپنے مذہب کی طرف دیکھتے ہیں، قرآن اور حدیث میں فساد کی مذمت کی گئی ہے، مذہبی منافرت کی حوصلہ شکنی ضروری ہے، اپنی صفوں کو درست رکھیں، فتنہ و فساد سے دور رہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں ہم نے ڈالا کلچر ختم کیا، خواتین کی بے حرمتی کو ختم کیا، کسی بھی فتنہ کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہر ظالم، مافیا کے لیے پنجاب کی زمین تنگ کردی گئی ہے، ٹریفک قانون کی سختی سے لوگ خوش نہیں، مجھے پتہ ہے، ٹریفک قوانین پر سختی سے مریم نواز کو کوئی فائدہ نہیں، مریم نواز آپ کا چالان نہیں کرنا چاہتی۔
0 تبصرے