
سماعت کے دوران کیا ہوا؟
سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے اپنے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں ان کا اختلافی نوٹ موجود ہے جبکہ دو جج صاحبان نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو ٹانگ میں گولی لگی تھی اور وہ زخمی ہونے کے باعث پیش نہیں ہو سکے، مگر ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی پر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا جبکہ اس وقت شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی تھیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ہرجانے کی رقم کتنی ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ 10 ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جب ٹرائل کورٹ نے دو تاریخوں پر زخمی ہونے کو تسلیم کیا تو اس کے بعد حقِ دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے دوسرے فریق کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
کیس کا پس منظر
2017 میں شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ عمران خان نے الزام لگایا تھا کہ پاناما کیس پر خاموشی کے لیے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی، جسے شہباز شریف نے جھوٹ قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔
لاہور کی سیشن کورٹ میں کیس کا ٹرائل جاری تھا، جہاں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب جمع کرانے میں تاخیر پر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا گیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
قبل ازیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست خارج کی تھی، تاہم جسٹس عائشہ ملک نے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کسی بھی فریق کا حقِ دفاع ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
0 تبصرے