
وزیراعظم نے ترلائی میں واقع امام بارگاہ کا دورہ کیا، مسجد انتظامیہ اور شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی اور زخمیوں کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے خودکش حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش میں جان قربان کرنے والے شہید عون عباس کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ایسے واقعات کا مقصد قوم کو تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور افواجِ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں اور پوری قوم اپنی افواج کی قربانیوں کی مقروض ہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ شہید عون عباس کے اہلِ خانہ کو حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ دیگر شہدا کے لیے 50 لاکھ روپے فی کس، شدید زخمیوں کے لیے 30 لاکھ اور معمولی زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شہدا کے بچوں کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی اور عون عباس کو 14 اگست کے موقع پر اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم اس سانحے پر سوگوار ہے اور حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے، شہدا کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
0 تبصرے