
انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملوں میں ملوث ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب کے مطابق 26 فروری کو افغان طالبان رجیم نے بلاوجہ پاکستان پر حملہ کیا جبکہ افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں نے معصوم پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں اور دشمن فورسز کو نشانہ بنایا اور انسداد دہشتگردی آپریشن کے دوران غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
عاصم افتخار نے واضح کیا کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے تاہم پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ خطے میں امن کا نیا دور شروع کرے، مگر موجودہ صورتحال میں Doha Agreement کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اسی معاہدے پر عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
0 تبصرے